خلیل الرحمن/ ماروی سرمدKhalil ur Rehman/Mavi Sarmad

خلیل الرحمن/ ماروی سرمدKhalil ur Rehman/Mavi Sarmad

آج کل خلیل الرحمن اور ماروی سرمد کی ایک بحث کا موضوع تذکرہ ہے میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں ایک مسلمان   ہونے کے ناطے ہمیشہ انصاف کی بات کرنی چاہیے عورت کارڈ ہر جگہ استعمال نہیں کرنا چاہیے اور اگر اس پروگرام کے حوالے سے بات کی جائے جس میں یہ دونوں آمنے سامنے تھے تو سچی بات تو یہ ہے کہ اس پروگرام میں دونوں نے بالکل برابر کی غلطی تھیخلیل الرحمن/ ماروی سرمدKhalil ur Rehman/Mavi Sarmad اس پروگرام میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سوشل ایشوز پر  بات کی جارہی تھی خلیل الرحمن نے بات شروع کرنے سے پہلے بار بار کہا کہ مجھے بات پوری کرنے دی جائے اور بیچ میں نہ بولے جس پر آج کل خلیل الرحمن اور ماروی سرمد کی ایک بحث کا موضوع تذکرہ ہے میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں ایک  اور ، حالانکہ ہر باشعور اور عقل والے اپنی مرضی کے مطابق ہی تمام فیصلہ کرتے ہیں اس معاشرے میں مرد بھی مظلوم موجود ہیں اور عورتیں بھی مظلوم موجود ہیں  عورت مارچ کی خواتین کو  اب اتنا شور نہیں مچانا چاہئے میں کسی طرح بھی خلیل الرحمٰن کی حمایت نہیں کر رہی  مرد کو عورت کے متعلق ایسی زبان کبھی بھی استعمال نہیں کرنی چاہیے لیکن یہ وہ خواتین ہے جو کہ برابری کا نعرہ لگاتی ہیں ماروی صاحبہ میڈیا پر بیٹھ کر ایک ایسا نعرہ لگا رہی تھی یا خلیل الرحمان کے سامنے ایک ایسا نہ لگا رہی ہیں جس کی وہاں پر بالکل بھی کوئی ضرورت نہیں تھی اس کی میں بہت سادہ سی مثال دوں گی کیا اگر کسی پروگرام میں کھانے کے بارے میں بات ہو رہی ہو اور اس میں سے ایک خاتون بار بار یہی کہنا شروع کر دیں کہ میں تمہیں اپنے گھر کھانے پر کبھی بھی نہیں بلاؤں گی تو جسے بھی وہی ہیں کہ یہ کہیں گی تو اس کا جواب یہی ہوگا کبھی بھی میں کب آپ کے گھر کھانے کے لئے آ رہا ہوں اور شاید ایسی ہی باتیں سننے کو ملیں گے  تم اپنا کھانا سنبھال کر رکھو  مرد عورت کبھی بھی برابر نہیں ہوسکتے دونوں کے اپنے اپنے کام ہیں اور اپنے اپنے دائرے ہیں اور اگر آغاز سے ہی دیکھا جائے تو اللہ تعالی نے مرد کو پہلے پیدا کیا اور عورت کو بعد 
میں پیدا کیا

ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیا اس مرضی والی سوچ میں سارا خسارا عورت کا ہو گا۔ کسی کے ایجنڈہ پر بلا سوچے سمجھے آنکھیں بند کر کے چننا انتہائی احمقانہ حرکت ہے مرنے کے بعد جب سوال ہوگا تو یہ دلیل قبول نہیں ہوگی کہ مجھے تو فون آنٹی نے کہا تھا اور ان کے کہنے پر میں نے یہ کہا کیونکہ اللہ تعالی نے ہر کسی کو عقل و شعور عطا فرمایا ہے تو ہمیں اس کا استعمال ضرور کرنا چاہیے حیرت ہے کہ جو نارا ماری صاحایکبہ لگا رہی تھی عدالت نے بھی ان کو  مشورہ دیا ہے کہ یہ سلوگن ہٹا دیا جائے
 عورت مارچ کے حمایتیوں کو یہی برابری چاہئے تھی۔ اگر یہ اتنی ہی ہمدردی رکھتی ہیں تو کاش یہ کچھ ایسی باتیں کرتی جس کی واقعی ضرورت ہے آج کل خلیل الرحمن اور ماروی سرمد کی ایک بحث موضوع تذکرہ ہے میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں ایک مسلمان   ہونے کے ناطے ہمیشہ انصاف کی بات کرنی چاہیے عورت کارڈ ہر جگہ استعمال نہیں کرنا چاہیے اور اگر اس پروگرام کے حوالے سے بات کی جائے جس میں یہ دونوں آمنے سامنے تھے تو سچی بات تو یہ ہے کہ اس پروگرام میں دونوں نے بالکل برابر کی غلطی تھی  اس پروگرام میں دیکھا جاسکتا  کہ سوشل ایشوز پر پر بات کی جارہی تھی خلیل الرحمن نے بات شروع کرنے سے پہلے بار بار کہا کہ مجھے بات پوری کرنے دی جائے اور بیچ میں نہ بولے جس پر ماروی صاحبہ نے نے ایک ہی جملہ بار بار دہرانا شروع کردیا حالانکہ اس جملے کی وہاں پر کوئی بھی ضرورت نہیں تھی  اور خلیل الرحمان قمر نے اس نعرے پر عمل کرتے ہوئے میری زبان میری مرضی کا استعمال کر دیا، معاشرے میں مرد بھی مظلوم موجود ہیں اور عورتیں بھی مظلوم موجود ہیں  عورت مارچ کی خواتین کو  اب اتنا شور نہیں مچانا چاہئے میں کسی طرح بھی خلیل الرحمٰن کی حمایت نہیں کر رہی لیکن یہ وہ خواتین ہے جو کہ برابری کا نعرہ لگاتی ہیں ماروی صاحبہ میڈیا پر بیٹھ کر ایک ایسا نعرہ لگا رہی تھی یا خلیل الرحمان کے سامنے ایک ایسا نہ لگا رہی ہیں جس کی وہاں پر بالکل بھی کوئی ضرورت نہیں تھی اس کی میں بہت سادہ سی مثال دوں ایک خاتون بار بار یہی کہنا شروع کر دیں کہ میں تمہیں اپنے گھر کھانے پر کبھی بھی نہیں بلاؤں گی تو جسے بھی وہی ہیں کہ یہ کہیں گی تو اس کا جواب یہی ہوگا کبھی بھی میں کب آپ کے گھر کھانے کے لئے آ رہا ہوں اور شاید ایسی ہی باتیں سننے کو ملیں گے  تم اپنا کھانا سنبھال کر رکھو....... ماروی صاحبہ جو بات کہہ رہی  تھی جس کا وہاں پر کوئی بھی نہ تو مطلب تھا اور نہ مقصد تھا اور اس طرح کے اور بہت سے نعرے جیسے دوپٹے کے متعلق یا بیٹھنے کے متعلق یہ سب وہ باتیں ہیں جو کہ ان کو اپنے گھر کے مردوں سے کہنا چاہیے نہ کہ دنیا والوں سے یا معاشرے کے دوسرے مردوں سے کہنا چاہیے کیونکہ  وہ بات کہنا بنتا ہی نہیں ہے   مرد عورت کبھی بھی برابر نہیں ہوسکتے دونوں کے اپنے اپنے کام ہیں اور اپنے اپنے دائرے ہیں اور اگر آغاز سے ہی دیکھا جائے تو اللہ تعالی نے مرد کو پہلے پیدا کیا اور عورت کو بعد میں پیدا کیا
ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیا اس مرضی والی سوچ میں سارا خسارا عورت کا ہو گا۔ کسی کے ایجنڈہ پر بلا سوچے سمجھے آنکھیں بند کر کے چننا انتہائی احمقانہ حرکت ہے مرنے کے بعد جب سوال ہوگا تو یہ دلیل قبول نہیں ہوگی کہ مجھے  آنٹی نے کہا تھا اور ان کے کہنے پر میں نے یہ کہا کیونکہ اللہ تعالی نے ہر کسی کو عقل و شعور عطا فرمایا ہے تو ہمیں اس کا استعمال ضرور کرنا چاہیےے
کیونکہ غلطی دونوں طرف سے ہوئی ہے تو کسی ایک کی سائیڈ نہیں لی جاسکتی اس معاشرے میں مرد بھی مظلوم موجود ہیں اور عورتیں بھی مظلوم موجود ہیں  عورت مارچ کی خواتین کو  اب اتنا شور نہیں مچانا چاہئےی
یا تو وہ عورت کارڈ استعمال کریں اور یا پھر برابری کا کارڈ استعمال کریں
خلیل الرحمن/ ماروی سرمدKhalil ur Rehman/Mavi Sarmad  وہ خلیل الرحمان کے سامنے اور پوری دنیا کے سامنے ایک ایسا بات کہہ رہی ہیں جس کی وہاں پر بالکل بھی کوئی ضرورت نہیں تھی ان کو چاہیے کہ اگر وہ  واقعی کچھ کرنا چاہتی ہیں تو ان لڑکیوں کے لئے کچھ کریں جو تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن نہیں کر پاتی بہرحال ان کی بات پر میں میں اس کی میں بہت سادہ سی مثال دوں گی کیا اگر کسی پروگرام میں کھانے کے بارے میں بات ہو رہی ہو اور اس میں سے ایک خاتون بار بار یہی کہنا شروع کر دیں کہ میں تمہیں اپنے گھر کھانے پر کبھی بھی نہیں بلاؤں گی تو  بھی   اس کا جواب یہی ہوگا کبھی بھی میں کب آپ کے گھر کھانے کے لئے آ رہا ہوں اور شاید ایسی ہی باتیں سننے کو ملیں گے  تم اپنا کھانا سنبھال کر رکھو  مرد عورت کبھی بھی برابر نہیں ہوسکتے دونوں کے اپنے اپنے کام ہیں اور اپنے اپنے دائرے ہیں مرد بہرحال عورت سے ایک نمبر آگے ہی ہےاور اگر آغاز سے ہی دیکھا جائے تو اللہ تعالی نے مرد کو پہلے پیدا کیا اور عورت کو بعد 
خلیل الرحمن/ ماروی سرمدKhalil ur Rehman/Mavi Sarmad
میں پیدا کیا
ان کو اگر معاشرے میں عورتوں کو عزت کا مقام دلانا ہی ہے تو اس کے لئے ان کو کام کرنا چاہیے نہ کہ ان کو بھی بے عزت کروائیں آج کل بہت سے مسلمان خواتین بھی یہ بات جو کہتی ہیں کہ مرد کو آنکھیں نیچی رکھنی چاہیے اور اس کو آنکھیں نیچی رکھنے کا حکم ہے اور پھر عورت کو پردے کا حکم ہے ہے ہر کسی کو اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے مرد اپنی آنکھیں نیچی رکھے اور عورتیں پردے میں رہے یہ نہیں کہ عورت مرضی کہے کہ میں تو دیکھتا رہوں گا عورت پردہ کرے اور عورت یہ کہے کہ میں تو جس حالت میں چاہوں میں رہوں لیکن مرد اپنی آنکھیں نیچی رکھیں تو یہ ایک بہت عجیب سی صورتحال پیدا ہوجائے گی ہمارا معاشرہ تصادم کا شکار ہوجائے گا.......سب کو مل کر کام کرنا ہوگا ہم انسان ہیں اور ہم ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لئے ذمہ دار ہیں یہ واحد راستہ ہے جس سے ہم اپنی دنیا کو رہنے کے  بہتر مقام بناسکتے ہیں... ہم مسلمان ہیں اور مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ ماں کو کو ہر روز اسے دیکھوں تو ایک حج کا ثواب ہے بہن پر خرچہ کرو تو ایک بہترین صدقہ ہے بیٹی کی اچھی تربیت پر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑوسی ہوگا اور بیوی کو اگر مسکرا کر دیکھے تو اللہ راضی ہوگا مومن مردوں کو چاہیے کہ جب اپنے کام سے عورت کرنے نکلے تو وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں لیکن عورت کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں ایک باعزت اور مہذب زندگی گزارے با عزت روزگار اور بزنس عورت عورت کا حق ہے
ئے
مغرب میں بسنے والی مسلمان عورت کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل  کرنے کے لیے اپنے پردے اور حجاب کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کی بعض عورتیں اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دین سے بغاوت کرتے ھوئے میرا جسم میری مرضی کا شرمناک ایجنڈا  آگے بڑھانے میں مصروف ہیں ہیں ماروی  سرمد کہہ رہی تھی میں جس کے ساتھ تعلقات رکھوں جس کے ساتھ بچے پیدا کروں چاہے اپنی شوہر سے تعلقات رکھوں یا نہ رکھوں
پھیر یہ جو پلے کاٹز پکڑے ہؤے ہیں اس کے کیا مقصد ہے
خلیل الرحمن/ ماروی سرمدKhalil ur Rehman/Mavi Sarmad اگر یہ اتنی ہی ہمدردی رکھتی ہیں تو کاش یہ کچھ ایسی باتیں کرتی جس کی واقعی 
ضرورت ہیں 
خلیل الرحمن/ ماروی سرمدKhalil ur Rehman/Mavi Sarmad




خلیل الرحمن/ ماروی سرمدKhalil ur Rehman/Mavi Sarmad
باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کے لئے سبسکرائب کریں

Comments