جھوٹی خبریں پھیلانا
Spreading false news
وَ اِذَا جَآءَہُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَوۡفِ اَذَاعُوۡا بِہٖ ؕ وَ لَوۡ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنۡہُمۡ ؕ وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّیۡطٰنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۳﴾
جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا حالانکہ اگر یہ لوگ اسے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے ، تو اس کی حقیقت وہ لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور اگر اللہ تعالٰی کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوہ تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے ۔
یہ بعض کمزوروں جلدباز مسلمانوں کا رویہ ہے کہ جھوٹی خبریں پھیلا دیتے ہیں ان کی اصلاح کی غرض سے بیان کیا جارہا ہے امن کی خبر سے مراد مسلمانوں کی کامیابی اور دشمن کی ہلاکت و شکست کی خبر ہے جس کو سن کر امن و اطمینان کی لہر دوڑ جاتی ہے اور جس کے نتیجے میں واضح ضرورت سے زیادہ پور اعتمادی پیدا ہوجاتی ہے جو نقصان کا باعث بن سکتی ہے اور ہلاکت کی خبر ہے جس مسلمانوں میں آسودگی پہلے اور ان کے حوصلے پست ہونے کا امکان ہوتا ہے اس لئے انہیں کہا جارہا ہے کہ اس چاہے امن کی ہو یا خوف کی انہیں سن کر عام لوگوں میں چلانے کی بجائے اہل علم و تحقیق میں ہونے پہنچا دو تاکہ وہ یہ دیکھیں گے کہ یہ خبر صحیح ہے یا غلط اگر صحیح ہے تو اس وقت اس سے مسلمانوں کا باخبر ہونا مفید ہے یا بے خبر رہنا نفاب بخش ہے یہ اصول ویسے تو عام حالات میں بڑا اہم ہے اور نہایت مفید ہے لیکن حالت جنگ میں یا کریں کسی پریشانی کے موقف اور اس کی افادیت اور اہمیت بہت زیادہ ہے آج ہم لوگ ایسے خبرے پھیلا دیتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا وہ لوگ اپنا ٹائم ویسٹ کر رہے ہوتے ہیں اور دوسروں کا بھی اس لئے ہمیں چاہئے کہ اگر کوئی بھی خبر ہو تو اس کی پہلے تحقیق کرلیں اور تحقیق کے بعد اس کو آگے تک پہنچائے بلا تحقیق کے ہر خبر آگے سے آگے پہنچانے میں جلدی نہ کریں
جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا حالانکہ اگر یہ لوگ اسے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے ، تو اس کی حقیقت وہ لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور اگر اللہ تعالٰی کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوہ تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے ۔
یہ بعض کمزوروں جلدباز مسلمانوں کا رویہ ہے کہ جھوٹی خبریں پھیلا دیتے ہیں ان کی اصلاح کی غرض سے بیان کیا جارہا ہے امن کی خبر سے مراد مسلمانوں کی کامیابی اور دشمن کی ہلاکت و شکست کی خبر ہے جس کو سن کر امن و اطمینان کی لہر دوڑ جاتی ہے اور جس کے نتیجے میں واضح ضرورت سے زیادہ پور اعتمادی پیدا ہوجاتی ہے جو نقصان کا باعث بن سکتی ہے اور ہلاکت کی خبر ہے جس مسلمانوں میں آسودگی پہلے اور ان کے حوصلے پست ہونے کا امکان ہوتا ہے اس لئے انہیں کہا جارہا ہے کہ اس چاہے امن کی ہو یا خوف کی انہیں سن کر عام لوگوں میں چلانے کی بجائے اہل علم و تحقیق میں ہونے پہنچا دو تاکہ وہ یہ دیکھیں گے کہ یہ خبر صحیح ہے یا غلط اگر صحیح ہے تو اس وقت اس سے مسلمانوں کا باخبر ہونا مفید ہے یا بے خبر رہنا نفاب بخش ہے یہ اصول ویسے تو عام حالات میں بڑا اہم ہے اور نہایت مفید ہے لیکن حالت جنگ میں یا کریں کسی پریشانی کے موقف اور اس کی افادیت اور اہمیت بہت زیادہ ہے آج ہم لوگ ایسے خبرے پھیلا دیتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا وہ لوگ اپنا ٹائم ویسٹ کر رہے ہوتے ہیں اور دوسروں کا بھی اس لئے ہمیں چاہئے کہ اگر کوئی بھی خبر ہو تو اس کی پہلے تحقیق کرلیں اور تحقیق کے بعد اس کو آگے تک پہنچائے بلا تحقیق کے ہر خبر آگے سے آگے پہنچانے میں جلدی نہ کریں
![]() | ||
| جھوٹی خبریں پھیلانا | Spreading false news |

Comments
Post a Comment