منزل کے اتنے قریب پہنچ کر زندگی سے بچھڑ جانا۔۔۔ انتہائی دردناک اور زندگی کی اصل حقیقت ہے۔ اللہ تعالی غم اور انتظار میں رہ جانے والوں کو صبر عطا فرمائے۔
اِنَّا لِلَّہِ وَ اِنّا إلَیہِ رَا جِعون
بہت افسوس ہے ان لوگوں پر جو کیپٹن سجاد گل پر ملبا ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اللہ تعالی ان کو ہدایت دے اس ائیر کریش کے بعد کیپٹن کی جو آخری گفتگو سنی ......ہر انسان موت کو سامنے دیکھ کر گھبرا جاتا ہے ۔مگر کیپٹن سجاد گل موت کو دیکھ کر بھی پورے ہوش و حواس میں تھے ۔ ان کو اللہ پر بھروسہ تھا کیونکہ جب وہ آخری الفاظ یہ بول رہے ہیں ان الفاظ میں .......,,,وی ھیو لوسٹ انجن سر ” میڈ ڈے ..میڈے.... میڈے
سلیوٹ کیپٹن سجاد گل سر!!
پی آئی اے کے طیارے 8303 کے پائلٹ سجاد گل کی اویوی ایشن ٹاور سے آخری گفتگو تھی!
دونوں رن وے خالی کرا لیے گئے سجاد گل کی لینڈنگ کی کوشش، مگر لینڈنگ گئیر کھل نہیں سکا اور طیارہ پھر فضا میں بلند ہوا....
اپنے 24 سالہ فلائنگ کیرئیر میں لاہور کے رہائشی سجاد گل نے 17 ہزار گھنٹے جہاز اڑائے تھے. صرف ائیر بس A320 ہی 4700 گھنٹوں سے زیادہ اڑائی تھی.
اس کے باوجود سجاد گل ایک تباہ شدہ جہاز کا پائلٹ ہے
"مے ڈے - مے ڈے" اور "ہمارے انجن ناکارہ ہوچکے ہیں".
یہ ایک کیپٹن کی باوقار آواز ہے، جو جہاز لینڈ کرنے کی کوشش کر چکا ہے اور پھر آخری مہلت کی تلاش میں ہے. وہ موت کو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہا ہے، مگر وہ پورے حواس میں ہے........... پاکستان میں ڈومیسٹک فلائٹس کے دوران ان ان کا فی بار حادثات ہوچکے ہیں اس کے بعد تحقیقاتی کمیٹیاں بنتی ہیں اور نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن وہ لوگ جو پہلے سے ہی سب سے آسان کام کرلیتے ہیں کہ کسی نہ کسی پر پہلے سے ہی الزام لگا دیتے ہیں تو وہ لوگ کیا انور سٹی گیٹ کریں گے اگر ٹائٹانک کا حادثہ پاکستان میں پیش آتا تو بھی یہ لوگ اس کے کیپٹن پر الزام لگا دیتے کہ دیکھا تھا آخری لمحات تک کیسے آرام سے کھڑا تھا اور اگر کچھ لوگوں کی نظر میں کیپٹن سجاد گل ایک اچھے کیپٹن نہیں تھے پی آئی اے ان کو کیوں pay کر رہا تھا وہ اپنے
17000 hours
کمپلیٹ کر چکے تھے جس پر بھی آئی اے نے ان کو اعزاز بھی دیا تھا
I salute you Cap sajjad Gul sir.
فی الحال ابھی تک اصل حقائق سامنے نہیں اس کے سکے تحقیقات جاری ہیں
Comments
Post a Comment